سائنس

آپ نے کبھی آسمانی لالٹین کا سنا ہے

آپ نے کبھی آسمانی لالٹین کا سنا ہے
Written by admin

آپ نے کبھی آسمانی لالٹین کا سنا ہے

تبصرہ: اکبر امین

آسمانی لالٹین غباروں کی طرح ہوتے ہیں جو خوشی کے کسی موقع پر آسمان کی سمت میں اڑائے جاتے ہیں۔ان کے درمیان میں آگ جل رہی ہوتی ہے۔جیسے ہی وہ ایک مقام سے اڑائے جاتے ہیں،وہ آسمان کی طرف سفر طے کرتے ہیں اور دور کہیں کھو جاتے ہیں۔فرض کریں کہ آپ دریا کے کنارے اپنی کشتی میں بیٹھے ہیں۔ہر طرف بالکل اندھیرا سا چھایا ہوا ہے۔آپ کی وہ کشتی دریا کے پانی پر کھڑی ہے اور ا سکے اندر صرف آپ ہیں۔چونکہ آپ چپو چلا کر آگے جانا چاہتے ہیں مگر روشنی کا کوئی ذریعہ نہیں،

تو آپ اداسی اور مایوسی کی نذر ہوجاتے ہیں۔جلد یا بدیر کہیں بہت دور سے آسمان پر sky lanterns آتے دکھائی دیتے ہیں۔آپ انھیں دیکھ کر اتنے خوش ہوجاتے ہیں کہ آپ کا ہاتھ چپو تک جاتا ہے اور مشین کی طرح چلتا رہتا ہے۔وہ کل 33 sky lanterns ہوتے ہیں۔ان کی روشنی نیچے تک آرہی ہوتی ہے جو آپ کا راستہ منور کر ے گی۔آپُ جلدی جلدی اس لیے چلا رہے ہیں کہ وہ sky lanterns کہیں دور نہ چلے جائیں اور آپُ پھر سے مایوس ہوجائیں۔سوآپُ خوب تگ و دو کرتے ہیں۔
وہ دریا دنیا ہے۔وہ کشتی آپ کی سیلف ہیلپ یعنی اپنی مدد

مزید پڑھیں۔۔۔سیکھنے اور سکھانے کا عمل آجاؤ مل کر سکھاتے ہیں

ُٓ آپ کے سفر میں سواری ہے۔یہ سفر آپ کا خود سے ملنے کا ہے۔ہوا میں اڑتے ان sky lanterns میں کہیں آپ کا عدم تحفظ یعنی ان سکیوریٹیز سے نجات کا راستہ ہے،ماضی سے پیچھا چھڑانے کے لیے روشنی ہے،کہیں اپنے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آپُ کو تیار کیا جا رہا ہے تو کہیں آپ کو آپ کی خامیوں کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے جو آپ ُٓ میں نہیں ہونی چاہئیں۔لو سیلف اسٹیم،ان سکیوریٹیز،کم اعتمادی،شکل و صورت پر کی جانے والی تنقید،اپنی ویلیوز رکھنا،حدود رکھنا،یہ سب ان sky lanterns کا مقصد ہے کیونکہ آپ تب تک اپنے سفر میں کامیاب نہیں ہوجائیں گے جب

تک آپُ کو ان کے بارے میں آگاہ کرکے روشنی نہیں دکھائی جائے گی۔اب یہ آپ پر انحصار کرتا ہے کہ آپ ہوائی غباروں کی روشنی کو ضائع کردیتے ہیں یا اس کا استعمال کرکے خوب تگ و دو کرکے دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچ جاتے ہیں جہاں کامیابی ہے۔کامیابی کے راستے میں بہت سی آزمائشیں پیش آسکتی ہیں اور اس کے بعد بھی۔آپ کو اپنی ویلیوز اور حدود کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔یہی اس کتاب میں انمول کا اولین مقصد ہے۔چاہے کچھ بھی ہوجائے،آپ نے اس اندھیری رات میں،سیاہ پانی میں خود کو بالکل نہیں کھونا۔اپنے آپ سے محبت کا معاملہ آپکی اولین ترجیح ہو۔

آپ نے کبھی آسمانی لالٹین کا سنا ہے

یہی اس کتاب کا نچوڑ ہے جو ہر ایک کے لیے بے حد ضروری اور کارآمد ثابت ہوگی۔
ہوسکتا ہے کامیابی کے بعد کہیں اپکو زہر یلا سیب مل جائے جسے آپ کو ان اسباق کی مدد سے ترک کرنا ہوگا۔ہوسکتا ہے کہیں کوئی بھیڑیا مل

جائے جو حملہ کرنا چاہے تو اس سے بھی ہائے سیلف اسٹیم کے ساتھ ملنا ہے۔ہوسکتا ہے کہیں آپُ کسی اونچے قلعے میں بند ہوجائیں اورآپ ُٓ کو اپنے لمبے بال بے مول لگیں۔مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ تھوڑے سے علم کے ساتھ آپ اپنے بالوں کے ذریعے ہی اس قلعے سے نکل سکتے ہیں؟
sky lanterns کا کوئی مقصد تھا۔وہ اپنے ساتھ مقصد لیے ہوئے تھے۔تو کل تئیس باب یعنی تئیس sky lanterns آپکو اندھیرے میں راستہ دکھانے آئے تھے جو آپکو دریا پار کرنے میں مدد دیتے۔
اب یہ تو آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس دوران اپنی کشتی پار کروالیں اور سفر میں کامیاب ہوجائیں یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے اندھیری رات کو روتے رہیں۔

آپ نے کبھی آسمانی لالٹین کا سنا ہے

مصنفہ نمرہ احمد اپنے اس کام میں بالکل کامیاب ہوئی ہیں۔انھوں نے کبھی کسی کتاب سے مایوس نہیں کیا۔اپنی کتابوں کے بارے میں بھی انھوں نے معلومات دی کہ انھیں کیسے لکھا گیا تھا جس سے کتاب میں مزید دلچسپی پیدا ہوئی۔انھوں نے جس طرح اپنی زندگی کے واقعات کو ہماری اپنی کہانی کے ساتھ جوڑا اور بتایا کہ یہ سب کیسے ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی ایک love book میں اسے لکھنے کے لیے دیا جو لاجواب تھا۔اب میں انمول میری پسندیدہ کتاب ہے۔میرا کہناہے کہ ایسی کتابیں کروڑوں میں ایک ہوتی ہیں۔پاکستان میں ایسا کچھ نہیں لکھا گیا۔

یہ کتاب ایک ہیرا ہے جو صرف نصیحت نہیں دیتی بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کا راستہ بھی بتاتی ہے۔نمرہ احمد نے مجھ سمیت کتنے قارئین کا اس کتاب سے دل جیت لیا،ا س کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔سچ ہے کہ یہ کتاب قلم دل میں ڈبو کر لکھی گئی ہے۔
(میں تبصرہ لکھنے میں بالکل اچھا نہیں ہوں)

About the author

admin

Leave a Comment