چند ماہ پہلے میں نے فری لانسنگ کے بارے میں پوسٹس لگائی تھیں

چند ماہ پہلے میں نے فری لانسنگ کے بارے میں پوسٹس لگائی تھیں

چند ماہ پہلے میں نے فری لانسنگ کے بارے میں پوسٹس لگائی تھیں

کہ نوجوانوں کو آن لائن سکلز سیکھنا چاہییں . اس وقت میں نے لکھا تھا کہ کم از کم ایک سال سخت محنت کریں . سکل سیکھیں… پھر فری لانسنگ کریں . مجھے یقین ہے کہ اکثریت ان باتوں پہ عمل نہیں کرتی . کیوں کہ یہ محنت نہیں کرنا چاہتے . انہونے سوچا ہوا ہے کہ اس دنیا سے اپنے دماغ کو انہونے غیر استعمال شدہ حالت میں لے کے جانا ہے . اکثریت نکمی ، نا اہل ، ہڈ حرام ہے . ان کو ہر چیز پلیٹ میں ڈال کے رکھی چاہیے . جہاں تک میرا تعلق ہے۔ تو میں صرف رستہ دکھا سکتا ہوں . جنرل گائیڈ لائن دے سکتا ہوں . سپون فیڈ نہیں کر سکتا

کیونکہ میرے پاس اپنے کام کرنے کو ہوتے ہیں . رستہ میں دکھا سکتا ہوں . چلنا آپ نے خود ہے . والدین کو بھی بتا دوں کہ مہنگے سکولوں اور یونیورسٹی ز میں فیسیں ضائع کرنے کا فائدہ نہیں ہے . ہاں اگر بچے کا شوق ہے . اچھی پروفیشنل ڈگری ہے . تو اور آپ کے پاس پیسے ہیں . تو ضرور لگائیں . لیکن اکثر بچوں کی مہنگی سکولنگ اور یونیورسٹی کی فیسز اور کورسز ۔ سب وقت اور پیسے کا ضیاع ہیں اظہر سید صاحب نے میری پوسٹ پہ کمنٹس کئے ہیں . مزید آپ سکرین شاٹ بھی دیکھ سکتے ہیں  نوجوان تمہاری ایک پوسٹ کی وجہ سے میرا 19 سالہ بیٹا جس نے اے لیول کیا ہے

مزید پڑھیں۔۔یونیفارم الیکٹرک فیلڈ میں پوٹینشل ڈفرینس آج ہم یہ ثابت کریں گے

اور سی اے کا طالبعلم ہے ماہانہ ایک ہزار ڈالر سے زیادہ فری لانسنگ سے کما رہا ہے ابھی جنوری کے مہینے میں 13 دن کے دوران 665 ڈالر کما چکا ہے تم نے ایک دن فری لانسنگ کے متعلق ایک پوسٹ کی تھی اور فری لانسگ ویب سائٹ کا تفصیلی زکر بھی کیا تھا بڑی بیٹی اپ ورک سے پیسے کما رہی ہے اور بیٹا شائد فائیور سے روزانہ پچاس ڈالر کی ایوریج سے کمائی کر لیتا ہے تینوں بچوں نے اپنے بینک اکاوئنٹ کھلوا لئے ہیں اور مزے مزے کی آن لائین شاپنگ کرتے ہیں جبکہ میرا سارا بوجھ بھی ختم ہو گیا ہے
سیکھنے کیلئے گوگل موجود ہے گرافک ڈائزائنگ اور ویب سائٹ بنانا سیکھ لیں

میرے بچوں نے گوگل سے ہی مدد لی تھی اور دس پندرہ دن کے اندر اکاونٹ بنا کر کام شروع کر دیا تھا چھ سات روز کے اندر انہیں آرڈر ملنا شروع ہو گئے تھے ۔ ایک بیٹی اکاوئٹنگ وغیرہ کے آرڈر کرتی ہے بیٹا ڈیجٹیل مارکیٹنگ اور گرافک ڈیزائینگ جبکہ ایک بیٹی آرٹیکل رائٹنگ کرتی ہے تینوں بچے اے لیول کر چکے ہیں سی اے کے طالبعلم ہیں خوب کمائی کر رہے ہیں صرف تین ماہ کے دوران
تمہاری ایک پوسٹ سٹریٹ اے سی سی اے بھی بچوں کو پڑھائی تھی کہ وہ بھی محنت کر کے سٹریٹ سی اے انٹر کے تمام پیپر پاس کر سکتے ہیں لیکن بے

چند ماہ پہلے میں نے فری لانسنگ کے بارے میں پوسٹس لگائی تھیں

پناہ محنت کے باوجود ایک بیٹی اڈٹ اور دوسری بیٹی لا کے پیپر میں 47 اور 49 نمبر لے کر بہت قریب سے فیل ہو گئی اب مارچ میں پیپر ہیں لیکن پہلے کی طرح نہیں پڑھ رہیں کہ اتنا پڑھ کر بھی فیل ہو گئیںکیوں نہیں نوجوان تمہاری وجہ سے بیٹا 19 سال کی عمر میں لاکھ پتی ہو گیا ہے اس کے اکاونٹ میں میرے خیال میں چار لاکھ سے زیادہ پیسے ہیں اسی طرح بیٹیاں بھی لکھ پتی ہو گئی ہیں ۔ میری رائے میں پاکستانی نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ فری لانسنگ میں مہارت حاصل کرنا چاہئے

25 سال کا نسٹ یونیورسٹی کا انتہائی لائق بھائی کا میکینکل انجینر بیٹا 60 ہزار ماہانہ تنخواہ لے رہا ہے جبکہ میرا 19 سالہ بیٹا طالبعلم ہے اور چھ سات گھنٹے لیپ ٹاپ پر کام کر کے ایک لاکھ سے زیادہ کما رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *