گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

ہرمیٹک اسٹوریج بیگ

اسٹوریج بیگ جو فصل کے بعد کے اناج اور بیجوں کو بیرونی اور اندرونی کیڑوں کے حملوں سے بچاتا ہے۔ زمین کو توڑنے والی جدت دو ٹکنالوجیوں کو ملا کر چھوٹے .اور درمیانے درجے کے کسانوں اور تاجروں کو دو سال تک پریشانی سے پاک. اسٹوریج کی پیش کش کرتی ہے۔

1. اعلی ترین کوالٹی ہرمٹک .اندرونی لائنر کیڑوں سے پہلے ہی کیڑوں سے متاثرہ اناج کے لئے مکمل تحفظ. کو یقینی بناتا ہے ، اور

2. کیڑے مار دوا سے وابستہ آہستہ رہائشی بیرونی بیگ اس بات کو یقینی بناتا ہے. کہ کوئی کیڑے 24 ماہ تک ذخیرہ شدہ اناج یا بیج پر حملہ نہیں کرسکتے ہیں۔ تھیلی میں شامل فعال اجزاء ، ڈیلٹیمتھرین . فوڈ اینڈ ایگریکلچر (ایف اے او) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کیڑوں .کے کیڑوں پر قابو پانے کے لئے منظور شدہ کیڑے مار دوا ہے۔ فعال جزو انفرادی سوت میں شامل کیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ کنٹرول اور پائیدار انداز میں مواد کی سطح پر جاری کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں۔۔۔سائنس کیسے ساری انسانیت کو مشترکہ فوائد دے رہی ہے۔

خصوصیات
سستی: بہت مسابقتی قیمت اور 2 سالوں میں کئی بار دوبارہ قابل استعمال

ماحولیاتی لحاظ سے دوستانہ: اسٹوریج کے دوران کیمیکل استعمال کرنے اور اس کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے

سیف: عام طور پر اناج اور بیج میں پائے جانے والے کیڑے مار دواوں کی باقیات کو کم کرتا ہے اور افلاٹوکسین اور سڑنا بنانے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

موثر: کیڑوں کے کیڑوں کے خلاف ثابت عالمی افادیت ، بشمول ویویل اور بڑے اناج بورر ، یہاں تک کہ انتہائی متاثرہ حالات میں

پائیدار: مشکل ترین ماحول میں بھی 2 سال تک ثابت ہوتا ہے

انفرادی ضروریات کے مطابق: 10 سے 50 کلوگرام تک دستیاب ہے

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

گندم کی کٹائی اور سرکاری و نجی سنٹرز پر فصل کی فروخت کا عمل جاری ہے۔ تاہم کچھ کاشتکار ایسے بھی ہیں جو فصل بیچنے کی بجائے. اناج کو گودام میں ذخیرہ کرنے. کو ترجیح دیتے ہیں۔اناج کو گودام میں ذخیرہ کرتے. وقت چند ضروری باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ اناج دشمن کیڑوں .کا حملہ ہو سکتا ہے جو غلے کے ضیاع کے .ساتھ ساتھ اس کے معیار اور بیج کی قوت روئیدگی پر بھی. اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

زرعی ماہرین کے مطابق ہر سال دس سے. پندرہ فیصد ذخیرہ شدہ غلہ نامناسب دیکھ بھال کے باعث نقصان دہ کیڑوں کی نذر ہو جاتا ہے. یہی نہیں موسمِ برسات میں نمی کی مقدار بڑھنے. پر بھی ذخیرہ شدہ بیج پھوٹ سکتے ہیں جبکہ پھپھوندی لگنے کا بھی احتمال رہتا ہے. لہذا نقصان سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گندم کو محفوظ کرنے کے. دوران مؤثر احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں۔

گودام کا معائنہ اور دیکھ بھال:
اناج ذخیرہ کرنے سے قبل گودام کو پہلے سے موجود پرانے دانوں، بھوسے اور مٹی وغیرہ سے پاک کر لیں۔گودام پختہ، روشن اور ہوادار ہونے چاہیں۔ مرمت کے دوران فرش، دیواروں اور چھت میں موجود سوراخ اور درزیں بند کر دیں تاکہ ان میں کیڑے مکوڑے پناہ نہ لے سکیں۔گود کے فرش کی سطح زمین سے دو، تین فٹ اونچی رکھنی چاہیے تاکہ محفوظ شدہ غلہ نمی کے اثرات سے محفوظ رہے۔

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

گودام کو گرم کرنا
گودام میں عارضی انگیٹھی بنا کر لکڑی کا کوئلہ سات کلوگرام فی ہزار مکعب فٹ کے حساب سے جلائیں۔ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہو جائے تو گودام کو اچھی طرح بند کر دیں۔اس درجہ حرارت کو اڑتالیس گھنٹے (دو دن) تک برقرار رکھیں تاکہ فرش اور دیواروں میں موجود اناج دشمن کیڑے تلف ہو جائیں۔
زہریلی دواؤں کا استعمال
غلہ ذخیرہ کرنے سے پہلے گودام کو ہوا بند کر کے زرعی ماہرین کے مشورے سے زہریلی گیس والی گولیاں سفارش کردہ مقدار میں رکھ کر گودام کو تین سے سات دن تک مکمل طور پر بند کر دیں۔گودام کو کھولنے کے چار سے چھ گھنٹے بعد تک اندر داخل ہونے سے گریز کریں۔اس مقصد کے لیے ایگٹاکسن یا ایلومینیم فاسفائیڈ کی تیس سے پینتیس گولیاں فی ہزار مکعب فٹ کے حساب سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

گندم کی صفائی
ذخیرہ کاری کے وقت دانوں میں نمی کا تناسب دس فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے ورنہ پھپھوندی لگ سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گندم کو صاف جگہ پر دھوپ میں بکھیر کر خشک کر لیا جائے۔بعد ازاں چھلنیوں کی مدد سے اناج کو ٹوٹے ہوئے دانوں اور جڑی بوٹیوں کے بیجوں سے پاک کر لیں۔

بوریوں کی صفائی
اناج ذخیرہ کرنے کے لیے پٹ سن کی نئی بوریوں کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن اگر پرانی بوریاں استعمال کرنی ہوں تو ان کی صفائی ازحد ضروری ہے۔پرانی بوریوں کو دھوپ میں ڈال کر ان میں موجود نمی ختم کر لیں اور بعد ازاں اچھی طرح جھاڑ لیں۔ بہتر صفائی کے لیے ڈیلٹا میتھرین 2.5 ای سی کی ایک لیٹر مقدار کو سو لیٹر پانی میں ڈال کر محلول تیار کریں اور بوریوں کو اس سے اچھی طرح دھو لیں۔دھونے کے بعد بوریوں کو خشک کر کے اناج سے بھر کر گوداموں میں ذخیرہ کر لیں۔

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

اناج دشمن کیڑے
ذخیرہ شدہ غلے کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں میں کھپرا، گندم کی سُسری، آٹے کی سُسری، سونڈ والی سُسری، گندم کا پروانہ اور چوہے شامل ہیں۔

ذخیرہ کاری کے بعد گودام کی دیکھ بھال
اناج ذخیرہ کرنے کے بعد گودام کا وقتاً فوقتاً معائنہ ضروری ہے تاکہ کیڑوں کے حملے کی صورت میں بروقت انسدادی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔ خصوصاً موسم برسات یعنی جولائی تا ستمبر کیڑوں کی نشوونما کے لیے زیادہ سازگار ہوتے ہیں۔

چوہوں سے حفاظت
چوہے بھی ذخیرہ شدہ اجناس کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ زرعی ماہرین کے مشورے سے زہریلی گولیاں آٹے میں ملا کر رات کے وقت گودام کے اردگرد ڈال دی جائیں۔

نمی سے بچاؤ
ذخیرہ شدہ گندم کو گوداموں میں بارشوں کے پانی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس سے گندم کے اگنے یا پھپھوندی لگنے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے گندم کا رنگ خراب ہو سکتا ہے جبکہ حشرات کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔حشرات کا حملہ ہونے کی صورت میں مندرجہ ذیل طریقوں پر عمل کریں۔

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

1۔غلے کو دھوپ میں ڈالنا
حشرات کا حملے ہونے پر غلے کو پکے فرش پر اچھی طرح پھیلا کر دھوپ میں رکھیں۔ اس عمل سے زیادہ تر کیڑے دھوپ اور گرمی کی وجہ سے مر جائیں گے یا غلہ چھوڑ دیں گے۔ تاہم رینگتے ہوئے کیڑوں کو دوبارہ سٹور میں جانے سے روکیں

۔ii- زہریلی گیس کا استعمال
گودام کی کھڑکیاں، روشن دان اور سوراخ اچھی طرح بند کر کے اس میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے زہریلی گیس والی گولیاں رکھ کر کم از کم تین سے سات دن تک بند رکھیں۔اس عمل سے پیدا شدہ گیس سے ہر قسم کے کیڑے تلف ہو جائیں گے۔ تاہم یہ طریقہ زرعی ماہرین کی نگرانی اور مشورے سے اختیار کریں۔

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

سے سٹور کیا جائے۔
عام طور پر گندم، گھر میں کھانے کے لئے اور بیج وغیرہ کے مقصد کے لئے بھڑولوں میں سٹورکی جاتی ہے. لیکن بھڑولوں میں سٹور کی ہوئی گندم میں کئی ایک حشرات اور کیڑے مکوڑے حملہ آور ہو کر نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں. گندم کے بھڑولوں میں زیادہ تر کھپرا، گندم کی سُسری، آٹے کی سُسری، گندم کا پروانہ اور گندم کی سونڈ والی سُسری جیسے حشرات پائے جاتے ہیں. اگر مناسب طریقے سے گندم کو سٹور نہ کیا جائے تو شدید حملے کی صورت میں یہ گندم کا 10 سے 18 فیصد تک نقصان کر سکتے ہیں. لہذا بہت ضروری ہے کہ گندم کو نہائیت احتیاط اور سمجھداری سے سٹور کیا جائے.
آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ گندم کو سٹور کیسے کرنا ہے.

گندم کو سٹور کرنے سے پہلے دو تین دن دھوپ لگوا لیں تاکہ اس میں سے نمی اچھی طرح سے نکل جائے. اگر گندم میں نمی زیادہ ہوگی تو کیڑے اور پھپھوندی لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

گندم کے بھڑولے میں کتنی گندم والی گولیاں رکھنی چاہئیں؟

بھڑولے کو اچھی طرح سے صاف کر کے اسے گندم سے بھر لیں. بازار سے کسی بھی اچھی کمپنی کی گندم والی گولیاں خرید لیں. ان گولیوں میں ایلومینیم فاسفائیڈ نامی ایک زہر ہوتا ہے جو بازار میں مختلف کمپنیاں اپنے اپنے ناموں سے بیچتی ہیں۔
8 من گندم کے لئے صرف ایک گولی ڈالنی چاہئے.
اس طرح 25 من گندم کے لئے 3 گولیاں اور 50 من گندم کے لئے 6 گولیاں کافی ہیں. یاد رکھیں کہ بتائی گئی مقدار سے زیادہ گولیاں گندم میں ہرگز نہ رکھیں. اس سے کئی طرح کے نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے.

بھڑولے میں گولیاں کیسے رکھنی چاہئیں؟

عام طور پر کاشتکار حضرات بھڑولے میں گولیاں رکھتے ہوئے انہیں کپڑے کی پوٹلی میں باندھ لیتے ہیں. پھر اس کے بعد یہ کرتے ہیں کہ سب سے پہلے بھڑولے کے پیندے میں گولیاں پھینک کر اس کے اوپر گندم ڈال دیتے ہیں. پھرمزید گولیاں ڈال کر اوپر گندم ڈال دی جاتی ہے اور آخر میں‌ جب بھڑولہ بھر جاتا ہے تو پھر گولیاں گندم کے اوپر پھینک کر انہیں‌ دانوں میں دبا دیتے ہیں.

واضح رہے کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے.
سب پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے گولیاں‌ پوٹلی میں بالکل نہیں باندھنیں بلکہ انہیں‌ کسی کھلے برتن مثلاََ چائے والے کپ یا پیالی وغیرہ میں ڈال کر رکھنا ہے. برتن کو اوپر سے ڈھانپنا بالکل نہیں ہے.
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ یہ گولیاں بھڑولے کی ہوا میں موجود نمی کے ساتھ عمل کر کے ایک طرح کی زہریلی گیس (فاسفین) پیدا کرتی ہیں. لہذا اگر آپ گولیاں‌ کسی کپڑے کی پوٹلی میں‌باندھ کر رکھ دیں گے تو یہ کپڑا ہی نمی کو جذب کر تا جائے گا اور نمی ان گولیوں تک کم پہنچے گی جس کی وجہ سے زہریلی گیس بھی کم پیدا ہو گی. اور ظاہر ہے کہ پھر اس کا اثر بھی کیڑوں مکوڑوں پر کم ہی ہو گا. لہذا گولیاں بغیر پوٹلی میں باندھے کھلے برتن میں رکھنی چاہئیں۔

گندم کی ذخیرہ کاری کسانوں کے لیے کچھ چند مشورے

دوسری بات یہ ہے کہ آپ کو یہ گولیاں گندم کے دانوں میں دبانے کی ضرورت نہیں ہے. بلکہ گولیاں برتن میں ڈال کر برتن کو دانوں کے اوپر ہی رکھ دیں۔
ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ بات آ رہی ہو کہ اس طرح گولیوں کا اثر دس بارہ فٹ نیچے پڑی ہوئی گندم تک کیسے پہنچے گا؟
اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ ان گولیوں سے نکلنے والی زہریلی گیس اپنے چاروں طرف پندرہ پندرہ فٹ تک گندم میں جذب ہو کر کیڑوں کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے. گندم والی ایک گولی 3 گرام کی ہوتی ہے جس میں سے ایک گرام زہریلی گیس نکلتی ہے. اس گیس میں گندم کے اندر جذب ہونے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے .اس لئے آپ کو اس حوالے سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے

کہ گولیوں کا اثر نیچے تک نہیں جائے گا.
ایک اور بات ذہن میں رہے کہ جب آپ گولیاں کسی برتن میں رکھیں گے تو گولیوں سے گیس نکلنے کے بعد جو پیچھے گولیوں کی راکھ وغیرہ بچ جاتی ہے وہ آپ برتن سمیت اٹھا کر باہر پھینک سکتے ہیں. لیکن پوٹلی میں بندھی ہوئی گولیوں کی کچھ نہ کچھ راکھ گندم کے دانوں میں مکس ہو سکتی ہے. ظاہر ہے زہریلے مادے کی راکھ صحت کے لئے فائدہ مند تو نہیں ہو سکتی.

بھڑولے کو ہوا بند کرنا کیوں ضروری ہے؟

جیسا کہ آپ کو پہلے بتایا جا چکا ہے کہ گندم کی گولیاں ہوا میں موجود نمی کے ساتھ مل کر فاسفین نامی ایک انتہائی زہریلی گیس پیدا کرتی ہیں جس سے سارے کا سارا بھڑولہ بھر جاتا ہے. بھڑولے میں موجود کیڑے پتنگے جب اسی زہریلی گیس میں سانس لیتے ہیں تو سانس کے ذریعے یہ گیس ان کے خون میں‌شامل ہو کر انہیں جان سے مار دیتی ہے. لہذا ضروری ہے کہ یہ گیس کم از کم دو ہفتے تک بھڑولے میں موجود رہے. اگر یہ گیس بھڑولے سے لیک ہو گئ تو کیڑے وغیرہ تلف نہیں ہوں گے. اور گندم میں گولیاں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا.
لہذا ضروری ہے کہ بھڑولے کو گولیاں رکھنے کے فوراََ بعد ہوا بند کر دیا جائے.

بھڑولے کو ہوا بند کیسے کیا جا سکتا ہے؟

بھڑولے کو ہوا بند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بھڑولے میں دانے ڈالنے اور دانے نکالنے والی دونوں جگہوں کو اچھی طرح سے سیل بند کیا جائے. اس مقصد کے لئے آپ آٹے کی لیوی بھی استعمال کر سکتے ہیں یا پھر مٹی میں باریک توڑی اور گوبر مکس کر کے اسے کام میں‌لا سکتے ہیں. ڈھکنوں کو اچھی طرح بند کر کے ان کے جوڑوں پر اس طرح سے لیپ کر دیں کہ کسی طرف سے بھی ہوا خارج نہ ہونے پائے. اگر ہوا خارج ہو گئی تو سارا کیا دھرا بے فائدہ ہو جائے گا.

بھڑولے کو کتنے دن بعد کھولنا چاہئے؟

بھڑولے کو ہوا بند کرنے کے بعد دو ہفتے تک کھولنا نہیں چاہئے. تاکہ بھڑولے میں موجود گیس اچھی طرح سے کیڑوں مکوڑوں کو تلف کر دے. دو ہفتے کے بعد آپ بھڑولے کو کھول دیں. اور کم از کم دو دن تک کھلا رکھیں تاکہ بھڑولے میں موجود زہریلی گیسیں اچھی طرح سے نکل جائیں.یاد رکھیں کہ بھڑولا کھولنے کے دو دن بعد تک گندم کھانے کے لئے استعمال نہ کریں. گندم کو گیس کے زہرلے اثرات سے مکمل طور پر پاک ہونے .کے بعد ہی اپنے استعمال میں لائیں.

مزید پڑھیں۔۔۔سائنس کیسے ساری انسانیت کو مشترکہ فوائد دے رہی ہے۔

بھڑولے میں گولیاں‌کب رکھنی چاہئیں؟
عام طور پر ہمارے کاشتکار جب اپریل مئی کے مہینوں میں‌ بھڑولے بھرتے ہیں تو اسی وقت بھڑولوں میں گندم کی گولیاں رکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہماری گندم پورے سال کے لئے حشرات وغیرہ سے محفوظ ہو گئی ہے.
لیکن ایسے بھڑولے جن میں اپریل مئی کے مہینوں میں گولیاں رکھی گئی ہوں، جسے ہی جولائی کا مہینہ آتا ہے تو کھپرا، سسری اور دوسرے کیڑے مکوڑے

بھڑولوں میں موجود گندم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں.
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حشرات اس وقت متحرک ہوتے ہیں .جب ہوا میں نمی کی مقدار ایک خاص حد سے زیادہ ہو جاتی ہے. اپریل مئی میں تو نمی بہت ہی کم ہوتی ہے جبکہ جولائی میں بارشوں وغیرہ. کی وجہ سے ہوا میں نمی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے. لہذا گولیاں رکھنے کا
بہترین وقت یہی جولائی کا مہینہ ہے. جیسے ہی ہوا میں نمی. کی وجہ سے کیڑے مکوڑے گندم کے اندر متحرک ہونا شروع ہوں. تو ساتھ ہی آپ اس میں گولیاں رکھ کر ان کا خاتمہ کر دیں.

مزید پڑھیں۔۔کیا واقعی انسان 309 سال تک سو سکتا ہے

امید ہے کہ آپ اس مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی گندم بہتر انداز میں بھڑولوں میں محفوظ رکھ سکیں گے.

ہرمیٹک اسٹوریج بیگ  سیڈ سا ینس ایند ٹکنالوجی  زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ے حاصل
تحریر
ڈاکٹر شوکت علی، ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد
تکنیکی معاونت
ڈاکٹر محمد صغیر، ماہر حشریات، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
محمد جاوید نیاز، ماہر حشریات برائے نجی شعبہ، ساہیوال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *