موٹیویشن

یہ جادوئی نمبر چار تھا۔جب نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ جادوئی نمبر چار تھا۔جب نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب ہوگئے۔
Written by admin

یہ جادوئی نمبر چار تھا۔جب نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب ہوگئے۔

جب فائبروبلاسٹ کےا ندر چار جینز Oct4, Sox2, Klf4 اور C- Mya  ڈالے گئے تو وہ نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب۔ ہوگئے۔ یعنی یہ خلیات ایمبریونک سٹیم سیلز کےا ندر تبدیل ہوچکے تھے۔ اور یہ خلیات اپنی ساخت تبدیل کرکے ایمبریونک سٹیم سیلز کی ساخت اختیار کرچکے تھے۔۔مختلف قسم کے تجرباتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے ریسرچر ان ریپروگرام خلیات کو تین ۔بنیادی ٹشوز کے اندر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔جن سے ممالیہ جانداروں کے تمام اعضاء بنتے ہیں یہ ٹشوز ایکٹو ڈرم، اینڈوڈرم اور میزوڈرم ہیں۔ پروفیسر یاماناکا نے یہ مشاہدہ کروایا۔ کہ وہ اس تمام عمل کو دہرا سکتے ہیں اور اس دفعہ ایمبریونک خلیات کی بجائے

وہ ایک بالغ چوہے کہ خلیات کو لیکر یہی نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ یہ صرف ایمبریو کے خلیات تک محدود نہیں ہے بلکہ بالغ خلیات کو بھی ایمبریونک سٹیم سیلز کے اندر بلا جاسکتا ہے۔یاماناکا نے اپنے بنائے گئے خلیات کو انڈیوسڈ پلوریپوٹنٹ سٹیم سیلز کا نام دیا اور IPS  سلیز سے آج بیالوجی کے اندر کام کرنے والے لوگ اچھی طرح سے واقف ہیں۔ یہ بہت حیرت انگیز ہے کہ ممالیہ جانداروں کے خلیات میں بیس ہزار کے قریب جینز موجود ہیں ۔لیکن ان میں سے صرف چار کی مدد سے خلیات کو پلوریپوٹنٹ بنایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں۔۔۔لالٹین اندان گاؤں میں بٹوارے سے پہلے کوئی باقاعدہ مسجد نہیں تھی

صرف چار جینز کی مدد سے پروفیسر یاماناکا گیند کو واڈنگٹن لینڈ سکیپ کے کسی ۔ایک راستے سے دوبارہ پیچھے چوٹی پر پہنچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس میں کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ کہ پروفیسر یاماناکا اور ٹاکاہاشی کے نتائج چند بہترین مستند جرائد میں سے ایک “سیل ” میں شائع ہوئے۔ حیرانی کی بات یہ ہے ۔کہ بہت سے سائنسدان یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ایسا ممکن ہے۔ انکی یہ سوچ اس وجہ سے نہیں تھی ۔کہ پروفیسر یاماناکا اور انکی ٹیم نے کوئی فراڈ کیا تھا بلکہ انھیں لگتا تھا ۔کہ کچھ غلط ہوا ہے کیونکہ یہ سب کچھ اتنا سادہ نہیں تھا۔

اس صورتحال میں ظاہری حل یہی تھا۔ کہ انھیں تجربات کو دوبارہ دہرایا جائے اور دیکھا جائے۔ کہ نتائج ویسے ہی ملتے ہیں یا نہیں۔ سائنٹفک کمیونٹی سے باہر کے لوگوں کیلئے ۔یہ ایک سادہ بات ہے لیکن دراصل اس دوران کوئی لیبارٹری ایسی نہیں تھی۔ جو اس وقت ان تجربات میں دلچسپی رکھتی ہو۔ ان تجربات کی تکمیل دو سال کے عرصے میں ممکن ہوپائی تھی اور تقریباً تمام لیبارٹریز اپنے حالیہ ریسرچ پروگرام پر توجہ مرکوز کئیے ہوتی ہیں اور اسکو بیچ میں چھوڑ کر کسی دوسرے پروگرام پر کام نہیں کرنا چاہتی ہیں جسکے ممکنہ نتائج مثبت آنے کے امکانات کم ہوں۔ لہذاٰ کسی بہترین اور وافر فنڈنگ کیساتھ اور بہترین سہولیات کیساتھ مزین لیبارٹری کا سربراہ ہی ایسے تجربات پر وقت ضائع کرنے کا رسک لے سکتا ہے۔

یہ جادوئی نمبر چار تھا۔جب نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب ہوگئے۔

وائٹ ہیڈ انسٹیٹیوٹ آف کیمبرج کےرڈلوف جینیش کا تعلق جرمنی سے ہے اور امریکہ میں انھوں نے تیس سال تک کام کیا ہے ۔ انکا شعبہ جانوروں کی جینیاتی ترمیم کا ہے۔ یہ وہ سائنس دان تھے جنھوں نے یہ رسک لینے کا فیصلہ کیا اور اور دیکھنے کی کوشش کی کہ کیا واقعی شنیا یاماناکا نے یہ ناممکن کام سر انجام دیا ہے یا نہیں۔ اپریل 2007 میں کولوراڈو میں ایک کانفرنس کے اندر رڈولف جینیش یہ اعلان کیا کہ انھوں نے یاماناکا کے تجربات کو دہرایا ہے اور واقعی وہ اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پروفیسر یاماناکا صحیح تھے۔ واقعی آپ بالغ خلیات کےاندر صرف چار جینز دال کر انھیں آئی پی ایس خلیات میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

روڈولف جینیش کے مطابق وہ جانتے تھے کہ پروفیسر یاماناکا صحیح نہیں ہوسکتے اور اسی کو ٹیسٹ کرنے کے لیے انھوں نے تجربات کئیے۔ اس واقعے کے بعد اس فیلڈ میں ایک نئی روح دوڑ گئی۔ بڑی بڑی لیبارٹریز یاماناکا کی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات شروع کرنے لگیں اور اسکے اندر مزید بہتری لانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ کچھ ہی سالوں کے اندر ایسی لیبارٹریز جنھوں نے آج تک ایک بھی آئی ایس خلیہ تیار نہیں کیا تھا، اپنی مرضی کے خلیات سے آئی ایس خلیات بنانے لگیں۔ آئی ایس خلیات ہر سائنسی تحقیقات اب ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں۔

یہ جادوئی نمبر چار تھا۔جب نیومائیسن کے اندر زندہ رہنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس تکنیک کی مدد سے فائبروبلاسٹ خلیات کو آئی ایس خلیات میں تبدیل کئیے بغیر براہ راست عصبی خلیات میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔  یہ ایسا ہی کہ واڈنگٹن کے لینڈ سکیپ پر کسی گیند کو پیچھے کی طرف آدھے رستے تک لیکر جایا جائے اور اسکے بعد کسی اور راستے میں ڈال دیا جائے۔ پروفیسر یاماناکا نے 2009 میں جان گورڈن کیساتھ مشترکہ طور پر لیسکر پرائز وصول کیا۔

دوستوں کے ساتھ شئرکریں

About the author

admin

Leave a Comment